বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম।
জবাবঃ-
আলহামদুলিল্লাহ!
সুন্নত এটাই যে, ব্যক্তি সে তার নিজের জন্যই ইস্তেখারা করবে। তবে অন্যর জন্য ইস্তেখারা করা নাজায়েয নয়। নবীজী সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম ইস্তেখারা শিক্ষা দেওয়া সত্বেও অন্য কারো জন্য কখনো ইস্তেখারা করে দেননি, কাজেই নিজের ইস্তেখারা নিজেই করা সুন্নত।
ইস্তেখারার পদ্ধতি সম্পর্কে জানতে ক্লিক করুন- https://www.ifatwa.info/1472
الفواكه الدواني: (186/1، ط: مكتبة الثقافة الدينية)
يظهر جواز الاستخارة للغير لأنه إعانة على فعل الخير.
الموسوعة الفقهية الكويتية :(246/3، ط: وزارة الأوقاف و الشئون الإسلامية)
النيابة في الاستخارة :
21 - الاستخارة للغير قال بجوازها المالكية ، والشافعية أخذا من قوله صلى الله عليه وسلم " من استطاع منكم أن ينفع أخاه فلينفعه " . وجعله الحطاب من المالكية محل نظر . فقال : هل ورد أن الإنسان يستخير لغيره ؟ لم أقف في ذلك على شيء ، ورأيت بعض المشايخ يفعله . ولم يتعرض لذلك الحنابلة ، والحنفية .
خیر الفتاوی: (341/1، ط: مكتبة امدادية)
فتاویٰ دار العلوم زکریا: (406/2، ط: زمزم ببلشرز)
وفى فتاوى دار العلوم ديوبند:
باقی اگرکسی دوسرے نیک آدمی سے کرائے تو شرعا اس کی بھی گنجائش ہے؛ کیونکہ یہ بھی مثل دعا کے ہے اور دعا کرانا دوسروں سے بھی ثابت ہے، اگر دوسرا نیک شخص اللہ تعالی سے اخلاص کے ساتھ یہ عمل کرے ؛ لیکن اس کا دل مطمئن نہ ہو تو وہ اس کا اظہار کرسکتا ہے ، یہ غیب کی خبر دینا نہیں ہے، یہ تو ایک مباح امر میں دل کے رجحان کا اظہار ہے، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی تجربہ کی بنیاد پر کوئی مشورہ دے دے۔ واضح رہے کہ اس طرح کی چیز کوئی حتمی نہیں ہوتی اور نہ شرعا اس پر عمل کرنا واجب اور ضروی ہے، اگر اللہ تعالی سے دعائے استخارہ کے بعد آدمی وہ کام انجام دے دے تو وہ اپنی ذمے داری سے بری ہے۔اس سلسلے میں تفصیل کے لیے بہشتی زیور اور امداد الفتاوی کا مطالعہ مفید ہوگا۔
وینبغی أن یکررہا سبعا، لما روی ابن السنی یا أنس إذا ہممت بأمر فاستخر ربک فیہ سبع مرات، ثم انظر إلی الذی سبق إلی قلبک فإن الخیر فیہ ولو تعذرت علیہ الصلاة استخار بالدعاء اہ ملخصا.(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/ 471،ط: زکریا دیوبند)واللہ تعالیٰ اعلم
جواب نمبر: 173360
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
وفى فتاوى دار العلوم بنورى ٹاون:
احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتاہے کہ جس شخص کی حاجت ہو وہ خود استخارہ کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو استخارہ کا طریقہ اس اہتمام سے تعلیم فرماتے تھے جیسے قرآنِ کریم کی سورت یا آیت۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے امور میں مشورہ تو لیتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’استخارہ‘‘ نہیں کرواتے تھے،
فتویٰ نمبر : 144103200572
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن